
تحریر: وقار ملک
پاکستان کی تاریخ ایسے نازک اور کڑے امتحانات سے گزری ہے جہاں ایک ایک فیصلے کا اثر صرف آج پر نہیں، آنے والی نسلوں پر بھی پڑتا ہے۔ ملک کو بیک وقت اندرونی خلفشار، بیرونی دباؤ، دہشت گردی کی طویل اور خونریز جنگ، علاقائی کشیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔ ایسے انتہائی نازک اور آزمائشی لمحات میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف بہادر اور تجربہ کار ہو، بلکہ سچی، دیانتدار اور اپنے اصولوں پر کھڑی ہو — جس پر ملک کا ہر شہری بھروسہ کر سکے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں آج پاک فوج کا پورا ادارہ اسی عزم، استقامت اور اخلاص کے ساتھ قومی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ کوئی بھی فوج، کوئی بھی ادارہ کبھی کسی ایک فرد کے سہارے نہیں چلتا — یہ ہمیشہ ایک متحد، منظم، وفادار اور ہم آہنگ ٹیم کی مشترکہ، بے لوث اور بے تکان کوششوں سے چلتا ہے۔ اسی عظیم اور قوم کی خدمت میں لگنی والی ٹیم کے دو اہم، قابلِ فخر اور نمایاں ستون جنرل عاطف بن اکرم اور جنرل فیصل نصیر ہیں — دو ایسے نام جو اپنے گہرے تجربے، پیشہ ورانہ مہارت، بے داغ کردار اور بلند اخلاق سے قومی سلامتی کے دیوار کو دن بہ دن مضبوط سے مضبوط تر بنا رہے ہیں ان کے ساتھ جنرل احمد شریف چوہدری، جنرل عاصم ملک، جنرل شاہد امتیاز، جنرل عرفان رامے اور دیگر سینئر اور قابل افسران بھی اپنے اپنے شعبوں میں پوری لگن، سچائی اور محنت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح جنرل عاطف بن اکرم بھی اپنے وسیع تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی خدمت کے جذبے سے ملک کو استحکام دے رہے ہیں۔ ان سے جو توقعات وابستہ ہیں، وہ بہت اہم ہیں — اور قوم ان پر پوری بھروسہ کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ جس طرح فوج اور عوام کے درمیان فاصلے ختم کریں گے، رابطے بڑھائیں گے اور بھروسے کی فضا بنائیں گے — وہ کام آنے والے وقتوں میں ہماری قومی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو گا۔ یہ کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں — یہ پورے ادارے، پوری قوم اور ہر اس پاکستانی کی کامیابی ہو گی جو اپنے وطن سے محبت کرتا ہے۔پاک فوج کی تاریخ قربانیوں سے سجی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کی طویل اور دردناک جنگ میں ہمارے بے شمار بیٹے، فوجی، پولیس اہلکار، رینجرز اور عام شہری اس مٹی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ قومی سلامتی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے اداروں پر ذمہ دارانہ نظر رکھیں، ان کی کارکردگی پر سوالات کریں، لیکن یہ سوالات اور تنقید ہمیشہ دلیل، سچائی اور تعمیری انداز میں ہو — نفرت، بدنیتی اور تقسیم پیدا کرنے والی باتوں سے ہمیشہ پرہیز کریں۔
آج سوشل میڈیا نے ہر فرد کو رائے کے اظہار کا وسیع موقع فراہم کیا ہے، لیکن یہ آزادی اپنے ساتھ بہت بڑی ذمہ داری بھی لے کر آتی ہے۔ کسی کے خلاف غیر مصدقہ اور منفی بات پھیلانا، اس کی کردارکشی کرنا یا قوم کو آپس میں تقسیم کرنا — یہ سب وطن کے ساتھ بے وفائی ہے۔ اور ہر اختلاف کرنے والے کو فوراً ملک دشمن قرار دینا بھی درست نہیں۔ ہم اپنی رائے رکھیں، اپنا اختلاف کریں، مگر عزت، انصاف اور سچائی کے ساتھ۔فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پوری پاک فوج کا عزم اٹل ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار پوری لگن، ایمانداری اور جانوں کے نذرانے تک ادا کرے گی۔ جنرل عاطف بن اکرم ہوں یا جنرل فیصل نصیر، یا دیگر سینئر افسران — سب کی کسوٹی صرف ایک ہے: وہ اپنے فرائض کو کس حد تک نبھا رہے ہیں، اور ان کے کام سے ملک کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تاریخ کبھی جذبات، نعروں یا وقتی لہروں سے نہیں چلتی — وہ سچائی، کارکردگی، نتائج اور کردار کی بلندیوں سے لکھی جاتی ہے۔آج ہمیں آپس میں بٹنے کی نہیں، مل کر چلنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے اچھے، صاف اور قابل بیٹوں کی قدر کرنی ہے جو ہمارے لیے راتوں کو جاگتے ہیں، جن کی سچائی پر ہم بھروسہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو قومی مفاد پر کبھی فوقیت نہ دیجیے۔ ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہے، اپنے آئین کی پاسداری کرنی ہے، اور اپنے وفادار بیٹوں کو سراہنا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر — ہمیں اپنی فوج اور اپنے عوام کے درمیان ایسا پیار، رشتہ اور یکجہتی استوار کرنی ہے کہ کوئی طاقت اسے توڑ نہ سکے۔پاکستان کی اصل طاقت اس کی فوج ہی نہیں — اس کی اصل طاقت اس کا متحد عوام، اس کا آئین، اس کی معیشت، اس کا قومی اتحاد اور اس کے نیک اور صاف کردار بیٹے ہیں۔ جب فوج مضبوط ہو، جمہوری ادارے مضبوط ہوں، عوام میں یکجہتی ہو، اور قوم اپنے سچے سپوتوں کی قدر کرنا سیکھے — تب ہی یہ ملک واقعی غیر شکست اور درخشاں ہو گا۔جو لوگ بے وجہ منفی پروپیگنڈا کر کے قومی ماحول کو خراب کرتے ہیں، وہ قوم کے حقیقی دوست نہیں۔ اور جو لوگ دن رات اس مٹی کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، جن کا کردار صاف ہے اور جن کی زندگیاں مثال ہیں — انہیں عزت دینا، ان کا ساتھ دینا اور ان پر بھروسہ کرنا ہمارا فرض ہے۔
یقین جانئے! ایسے افسران جیسے جنرل فیصل نصیر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایسی نعمت مل جائے تو قوم کو اس کی قدر کر لینی چاہیے — اور جب جنرل عاطف بن اکرم جیسا قابل افسر قوم کی توقعات کا مرکز بنے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، اس کا ساتھ دینا چاہیے اور اسے کامیاب دیکھنے کے لیے دعا گو رہنا چاہیے۔ کہ وہ ایسا کام کر دکھائیں جس سے ہر پاکستانی فخر کر سکے — اور دنیا دیکھے کہ پاکستان کا بیٹا کتنا بڑا ہے۔
پاکستان زندہ باد!
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
.
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔
