
دبئی (طاہر منیر طاہر) بریگیڈیئر ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر وحیدالزماں طارق کو یومِ آزادی کے موقع پر صدرِ مملکت کی جانب سے ستارۂ امتیاز کا سول اعزاز عطا کیا گیا ہے۔ اندرون اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والی 355 ممتاز شخصیات کو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ اعزازات دیے گئے۔ اہلِ علم و ادب میں سے منتخب ہونے والی شخصیات میں معروف ماہرِ اقبالیات، محقق، ادیب اور فارسی کے صاحبِ دیوان شاعر پروفیسر ڈاکٹر وحیدالزماں طارق بھی شامل ہیں، جنہیں ستارۂ امتیاز (ادب ـ اقبالیات) عطا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر وحیدالزماں طارق گزشتہ نصف صدی سے فکرِ اقبال، اقبالیات، تحقیق، تدریس اور اشاعت کے میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اقبالیات، فارسی ادب اور اسلامی فکر کے موضوعات پر ان کی دو درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جبکہ متعدد تصانیف زیرِ طبع ہیں۔ ان کی نمایاں کتب میں Iqbal and Tauheed، Iqbal and Sages of the East،
فکرِ عجم، اہلِ فارس کی علمی و عملی میراث اور علامہ اقبال، عقابی روح،ا قبال: نقش ہائے ہفت رنگ اور فکرِ اقبال کا تسلسل شامل ہیں۔ آپ کی دیگر کتابیں اردو اور فارسی شاعری، سرگزشت حیات اور طب کے موضوعات پر ہیں۔ آپ کی تصانیف انگریزی، اردو اور فارسی زبان میں ہیں۔
ڈاکٹر وحیدالزماں طارق فارسی کے صاحبِ دیوان شاعر بھی ہیں۔ ان کے شعری مجموعے برصغیر کے علاوہ ایران اور دیگر فارسی زبان ممالک میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ فارسی زبان و ادب اور فکرِ اقبال سے ان کی گہری وابستگی نے انہیں پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی علمی و ادبی حلقوں میں بھی ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
انہیں پاکستان، برطانیہ، امریکہ، متحدہ عرب امارات، ایران اور دیگر ممالک میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی علمی و ادبی کانفرنسوں میں کلیدی خطابات کے لیے مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران وہ مجلسِ قلندرانِ اقبال کے سرپرستِ اعلیٰ رہے۔ وہاں پر دس برس تک اقبالیاتی سرگرمیوں، مشاعروں اور دیگر ادبی پروگراموں میں پیش پیش رہے۔پاکستان واپسی کے بعد بزمِ فکرِ اقبال انٹرنیشنل اور اقبال ریسرچ سینٹر کے سرپرستِ اعلیٰ کی حیثیت سے علمی و ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
ملک کی مختلف جامعات، اقبال اکیڈمی، دبستانِ اقبال اور دیگر علمی و ادبی اداروں میں ان کے خطابات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی علمی زندگی کا ایک منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ وہ تاریخی مرکزیہ مجلسِ اقبال کے آخری کلیدی خطیب ہیں، جس سے 1940ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے خطاب کیا تھا۔
فکرِ اقبال کی ترویج، اقبالیاتی تحقیق، تدریس، فارسی ادب اور ادبی خدمات کے اعتراف میں صدرِ مملکت نے پروفیسر ڈاکٹر وحیدالزماں طارق کو ستارۂ امتیاز (ادب) عطا کرنے کی منظوری دی۔ یہ قومی اعزاز 23 مارچ 2026 کو منعقد ہونے والی روایتی تقریب میں عطا کیا گیا-
ستارۂ امتیاز کا یہ اعزاز ڈاکٹر وحیدالزماں طارق کی نصف صدی پر محیط علمی، تحقیقی، تدریسی اور ادبی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف ہے۔ بالخصوص فکرِ اقبال اور اقبالیات کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل اور گراں قدر کاوشوں کے اعتراف میں یہ اعزاز نہ صرف ان کے لیے ایک اعزازِ افتخار ہے بلکہ اقبال شناسی کی اس علمی روایت کے لیے بھی خراجِ تحسین ہے جسے انہوں نے نصف صدی تک اپنی تحقیق، تصنیف، تدریس اور خطابت کے ذریعے زندہ رکھا۔
