
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو اشیائے خورونوش پر بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔ حکام کے مطابق حکومت نے کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر عائد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا بدستور مہنگی رہ سکتی ہیں۔
نجی ویب سائٹ’ آج’ کے مطابق وفاقی بجٹ 2026 میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنےکیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیے گئے ہیں۔
