وہ ہر روز اندھیرا ہوتے ہی چپکے سے باہر کھسک جاتا،یوں محسوس ہوتا جیسے سوتے میں کوئی سہانا خواب دیکھ رہا ہو، جیسے حسین تخیل سامنے آ گیا ہو

عی Aug 12, 2026 IDOPRESS

مصنف:صادق حسین


قسط:49


وہ ہر روز یہی کہتا مگر اندھیرا ہوتے ہی چپکے سے باہر کھسک جاتا۔ ششی کے کوٹھے پر پہنچ کر اسے ایک عجیب سا سکون میسر آ جاتا، اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ سوتے میں کوئی سہانا خواب دیکھ رہا ہو، جیسے جاگے میں کوئی حسین تخیل حقیقت بن کر اس کے سامنے آ گیا ہو مگر جب کوئی تماش بین صحن چی میں آ کر آواز دیتا تو پرویز کا وہ سہانا خواب، وہ حسین تخیل ایک تلخ حقیقت میں بدل جاتا، ششی دوڑ کر باہر جاتی اور بڑی نرمی سے جواب دیتی ”معاف کیجئے میں رات بھر کے لئے بُک ہوں۔“


”رات بھر کے لئے بُک“ سن کر پرویز کے تن بدن میں اک آگ سی لگ جاتی۔ ”اچھا میری جان کل سہی“ کوئی تماش بین یہ کہتے ہوئے واپس چلا جاتا، پرویز غصہ سے دانت پیس کر رہ جاتا اور ششی جب صحن چی میں واپس آ کر پرویز کے پاس بیٹھتی تو اس کی جھکی جھکی نظریں ا ور ماتھے پر پسینے کے قطروں کی نمود اس کی اندرونی کیفیت کی غمازی کر دیتی، کچھ دیر کے لئے خاموشی چھائی رہتی اور پھر کوئی بات چھڑ جاتی، سنجیدگی مسکراہٹوں میں بدل جاتی، وقت کا ہاتھ چھوٹی چھوٹی چوٹوں کی خودبخود مرہم پٹی کر دیتا۔ ششی منہ سے کچھ نہ بولتی مگر اس کی آنکھیں پکار پکار کر کہتیں ”چلو کہیں بہت دور اپنا گھر بسائیں، جہاں پورا سکون ہو بھرپور زندگی ہو، رقص ہو، گیت ہوں اور ننھی منی زندگیوں کی چہل پہل۔“ اور ایک دن پرویز نے ان آنکھوں کی یہ باتیں جیسے سن لی ہوں۔


”میں اب مکان تلاش کر رہا ہوں، میں اب تمہیں اس گندگی میں نہیں رہنے دوں گا۔“ جب پرویز نے یہ کہا تو اس کی آنکھوں میں عزم و استقلال کی روشنی جھلک رہی تھی۔ یہ سن کر ششی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلکنے لگے، اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ مسرت کی اس اچانک یلغار کے لئے بالکل تیار نہ تھی، اس کے انگ انگ میں لہو کی آگ دوڑنے لگی، اس نے گہری دلچسپی سے اپنے چہرے کا عکس آئینے میں دیکھا۔ رخساروں میں انگارے دہکنے لگے، ہونٹوں پر سرخی دوڑ گئی، کسی نامعلوم جذبے کے تحت اس نے اپنی ساڑھی کے پلو سے سر ڈھانپ کر آنکھیں جھکا لیں، اس کا جی چاہا کہ پرویز اسے ابھی بازو سے پکڑ کر کہیں لے جائے، اس گندے ماحول سے بہت دور، اس پراسرار ماحول سے، جہاں مرد کا وقار سنجیدگی اور دبدبہ، بھیک مانگنے میں، سستے مذاق کرنے میں، جھوٹی شراب پینے میں تسکین پاتا تھا۔ یہ سوچتے سوچتے اسے خیال آیا کہ اس نے نئے گھر میں اس نئی دنیا میں جہاں صرف پرویز ہو گا اور وہ ہو گی ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گا، جہاں ماضی حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا، جہاں وہ اپنے تمام دُکھ درد بھول جائے گی، اور جب پرویز پیار بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر کہے گا ”ششی“ تو وہ نیلے آکاش کی طرف اشارہ کر کے کہے گی ”یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے“ خیالات کی قوس قزح میں تیرتے تیرتے ششی کو احساس ہوا کہ آج کا دن عظیم دن ہے، آج وہ ایک ناچ ناچے گی جو اس گھر میں اس کا آخری ناچ ہو گا۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں