
تہران (ویب ڈیسک) پاسداران انقلاب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو تباہ کر نے کا دعویٰ کیا ہے اور کہاہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کا بحرین ، کویت اوراردن میں امریکی اڈوں، پانچویں بیڑے کے ریڈارسسٹم کو نشانہ بنایا اور خلیج فارس میں امریکی ڈرون مارگرایاہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔‘
بی بی سی اردو کے مطابق ارنا کے ایکس کے اکاؤنٹ پرشیئر کی گئی فوٹیج میں قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو خطے میں امریکی اہداف پر فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو بدھ کی صبح ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا تاہم بی بی سی آدادانہ طور پر اس فوٹیج کی تصدیق نہیں کر سکا۔
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق، فوج نے ان حملوں کو جنوبی ایران کے باشندوں کے خلاف امریکی ’ہراساں کیے جانے‘ کے بعد ’جوابی اقدام‘ قرار دیا۔ایران میں جنگ کے انتظام کے انچارج خاتم الانبیا کے ہیڈکوارٹر نے جنوبی ایران کے بعض حصوں پر امریکی حملوں کے ایک گھنٹہ بعد ایک بیان جاری کیا اور حملوں کی تفصیلات بتائیں اوربیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران کی جانب سے ’مزید سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے پر حملہ کیا۔تسنیم خبررساں ادارے نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’دشمن کے مذموم اقدام کے جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے بحرین کے پانچویں بحری بیڑے پر صبح ڈھائی بجے ڈرون حملہ کیا‘۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جاری فضائی لڑائی کے دوران ایک ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے، ڈرون کا مقصد ’شمالی خلیج فارس کے آسمان سے میدان جنگ میں داخل ہونا اور مداخلت کرنا تھاجسے’جام کاؤنٹی، بوشہر صوبے کی فضا میں تباہ کیا گیا ہے تاہم سینٹکام نے ابھی تک اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے۔
ادھر فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ’اس نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے ذریعے ’چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی فضائی اڈے پر F-35 لڑاکا جیٹ ہینگرز اور آرمی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ شامل ہیں، ابھی تک امریکی ذرائع نے اس حملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس سے قبل خاتم الانبیاء کے ہیڈ کوارٹر نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ایرانی حملے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے مشترکہ طور پر کیے تھے۔ایران کی جانب سے حملوں کے بعد اب کویت سے خبر سامنے آئی ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کو روک لیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کویتی آرمی جنرل سٹاف نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ’دشمن کے فضائی اہداف‘ کو روک دیا ہے۔کویتی فوج نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ’مجاز حکام کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی اور حفاظتی رہنما خطوط پر عمل کریں اور با اختیار سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔‘
یادرہے کہ بدھ کی صبح پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’آج علی الصبح امریکہ نے جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملہ کیا، جس سے سرک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہر کے ضلع بیمانی میں پانی کے دو ٹینک تباہ کر دیے، دشمن کے اس مذموم اقدام کے جواب میں، پاسداران انقلاب نے ایف آئی آر کی نیوی پر حملہ کیا۔‘
پاسداران انقلاب کے بیان میں ’جھڑپوں کے جاری رہنے‘ کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ’اگر برائی جاری رہی تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔‘
