
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیدی، جسٹس طارق ندیم نے قرار دیا کہ صرف شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دیے گئے اضافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر فاروق عرف احتشام کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کیا، عدالت نے اس حوالے سے 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت حاصل ہوگی۔
اس فیصلے کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ نے یہ اہم اصول طے کیا ہے کہ ابتدائی ایف آئی آر کے بعد محض سپلیمنٹری یا اضافی بیان، بغیر کسی آزاد اور مضبوط شہادت کے، کسی ملزم کی گرفتاری کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا، عدالت نے ایسے طرزِ عمل کو بنیادی حقوق کے تحفظ اور منصفانہ تفتیش کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔
