وضع دار اور خاندانی روایات کے حامل شخص۔ان کے جدید بنگلے کے سرسبز لانز میں جھومتے پودے اور پھول ان کی شائستگی اور ذوق کے علمبردار تھے

مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:404بڑے زمینداروں کی دعوت؛ رحیم یار خاں میں ایک بار چوہدری جعفر اقبال گوجر آف چیلانوالہ سے ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی۔ وہ نواز

ٹیک Jan 9, 2026 IDOPRESS

مصنف:شہزاد احمد حمید


قسط:404


بڑے زمینداروں کی دعوت؛


رحیم یار خاں میں ایک بار چوہدری جعفر اقبال گوجر آف چیلانوالہ سے ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی۔ وہ نواز شریف کی مسلم لیگ کے سر کردہ رہنما تھے اور چوہدری اقبال کے فرزند۔ وضع دار اور خاندانی روایات کے حامل شخص۔ان کے جدید بنگلے کے سرسبز لانز میں جھومتے پودے اور پھول ان کی شائستگی اور ذوق کے علمبردار تھے۔ان کی بیٹی حمیدہ سے بھی ملاقات ہوئی وہ بھی سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ چوہدری جعفر اقبال کے والد چوہدری محمد اقبال گوجر سے بھی میری چند ملاقاتیں اُس وقت رہیں جب وہ ایم این اے تھے اور اے ڈی ایل جی آفس گجرات میٹنگ کے لئے آیا کرتے تھے۔ نواب آ دمی اور بڑے زمیندار تھے۔


پیپلز پارٹی کے ایم پی اے چوہدری جاوید حسن گوجر بھی یہاں کے بڑے زمیندار تھے۔ ملک مشتاق حسین سے ان کی پرانی شناسائی تھی۔انہوں نے مشتاق کی دوستی میں مجھے انتہائی پر تکلف ظہرانے پر مدعو کیا۔ لق و دق صحرا کو انہوں نے دن رات محنت کرکے جنت ارضی میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دور دراز علاقوں سے آ کر یہاں آباد ہوئے اور اس جلتے ابلتے صحرا میں ہوا کا خوشگوار اور خوشبودار جھو نکابن گئے۔ان کا پر تکلف دستر خوان ان کی اعلیٰ میزبانی اور مشتاق سے محبت کا ثبوت تھا۔خورشید صاحب اور نواز بھی میرے ساتھ تھے۔ میں نے نواز کو بھی اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا کھانے کو کہا تو اُس کی حیرانی دیدنی تھی۔ وہ کچھ دیر مبہوت ہی کھڑا گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔ میں نے دوباہ کہا؛”نواز! تم یہیں ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ گے۔ کوئی پریشانی؟“ بولا؛”سر! پریشانی نہیں لیکن آج سے پہلے ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔“میں نے جواب دیا؛”بیٹا! ہر کام پہلی بار ہی مشکل ہوتا ہے۔“


دوبئی کے حکمرانوں کا علاقہ؛


رحیم یار خاں کے لق و دق صحرا میں ”ٹوبھ پنج کوٹی“ کے گرد بڑے رقبے پر لگی باربڈ وائیر دراصل دوبئی کے حکمرانوں کے لئے مختص علاقہ ہے جہاں کسی پاکستانی کو جانے کی اجازت نہیں۔ یہ عرب شہزادے یہاں ہر سال شکار کے لئے آتے ہیں اور اپنے من پسند پرندوں کا شکار کرکے، خود کو تازہ دم کرکے میاں منیر کی میزبانی سے لطف اٹھا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اُن دنوں آئے مہمانوں کاخیال رکھنا میاں منیر کی ذمہ داری ہے جس کے عوض انہیں دولت سے لاد گیا تھا۔ ان شہزادوں کی آمد کے دوران ان کے لئے جدید ترین ٹینٹ لگائے جاتے ہیں اور دنیا کی جدید ترین فور بائی فور جیپیں صحرا کی ریت اڑاتی فراٹے بھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بھی اسی ملک میں ممکن ہے جہاں اغیار کو جاگیریں دی گئی ہیں اور بدلے میں ہمیں شیخ زائد میڈیکل کالج، شیخ زائد ائیر پورٹ اور صحرا میں دوڑتی چند جدید سڑکوں اور میاں منیر کی صورت ملا۔


ایک بار قلعہ اسلام گڑھ جاتے ہوئے اس صحرا اور جنگل میں منگل بنے دوبئی کے حکمرانوں کو عطا کردہ جاگیر کے قریب سے گزر رہا تھا تو مجھے دوبئی کے حکمرانوں کی سخاوت کی کہانیاں میاں حنیف سیکرٹری یونین کونسل اسلام گڑھ نے سنائی تھیں۔ شیخ زائد بن سلطان النہیان جب یہاں آئے تو ایک روز شکارکرتے انہوں نے ایک چولستانی کو اونٹی کا دودھ پلانے کے عوض 50 اونٹوں کے تحفے اور ایک نسان ڈبل کیبن پک اپ سے لاد دیا تھا۔اپنے میزبانوں کو ایسے قیمتی تحائف دینا عربوں کی روایت ٹھہری ہے۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں