
اسلام آباد (ویب ڈیسک) صحافی اسد اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’محسن نقوی کے رابطہ کرنے کے باوجود سہیل آفریدی نے 2 بار ملاقات کو ٹالا، وہ جانتے تھے کہ احتجاج سے روکنا چاہتے ہیں، پھر محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے گھر ملاقات کروائی لیکن اس ملاقات میں عمران خان کی بہنیں موجود نہیں تھیں۔
اپنے ویلاگ میں اسد اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ 21مئی کو سہیل آفریدی اڈیالہ جیل گئے اور91 مئی کو لوگوںکو بڑی تعداد میں ساتھ لانے کا اعلان کیا۔21 تاریخ کو سہیل آفریدی اڈیالہ گئے اور اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سےبہنوں کی ملاقات کا مطالبہ کیا، لیکن جب ملاقات نہ ہوسکی تو انہوں نے کہا کہ وہ اگلے منگل کوبڑے قافلے کےہمراہ اڈیالہ آئیں گے۔ان کے اس اعلان پر وزیرداخلہ محسن نقوی نے رابطہ کیا اور سہیل آفریدی کو ملاقات کرنے بارے کہا۔سہیل آفریدی نے ملاقات سے گریز کیا اور کوشش کی کہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات نہ ہو۔محسن نقوی نے سہیل آفریدی سے کہا کہ’’ میں پشاور میں موجود ہوں اور آپ سے ملاقات کرنا چاہتاہوں ‘‘۔ جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’ میں اسلام آباد آگیا ہوں۔
ان کا مزید کہناتھاکہ محسن نقوی نے اسلام آباد پہنچ کرسہیل آفریدی سے دوبارہ رابطہ کیا تو انہوں نے دوبارہ ٹال مٹول سے کام لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں پشاور کے لیے نکل رہا ہوں اورملاقات سے انکارکردیا۔سہیل آفریدی نے ملاقات کو دومرتبہ ٹالا۔کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ محسن نقوی انہیں اڈیالہ میں ہونے والے احتجاج سے روکنا چاہتے ہیں۔
بعدازاں محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا اور اس ملاقات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر نے کو کہا،بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی سے رابطہ کرکے ملاقات کرنے کو کہا۔سہیل آفریدی نے محسن نقوی سےانکی رہائش یا انکے پاس جاکر ملاقات کرنے سے پھر انکار کردیا،جس پر بیرسٹر گوہر نے کہا اس کا حل ہے کہ آپ میری رہائش گاہ پر ملاقات کرلیں۔ان کے اصرار پر یہ ملاقات بیرسٹر گوہر کے گھر پر ہوئی۔ اس ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں موجود نہیں تھیں۔
