سوشل میڈیا اور بے راہ روی 

تحریر: محمد اقبال اعوان سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ اور غلط استعمال نہایت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں اکثریت کم تعلیم یافتہ ہے،

سافٹ ویئر Apr 16, 2026 IDOPRESS


تحریر: محمد اقبال اعوان


سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ اور غلط استعمال نہایت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں اکثریت کم تعلیم یافتہ ہے، وہاں آگاہی اور شعور کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ کم عمر افراد، تجربے کی کمی کے باعث، اکثر سماجی شعور سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ یہی شعور فرد میں شہری ذمہ داریوں کا احساس بیدار کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے متعدد گھروں کو برباد کر دیا ہے اور بے شمار افراد کے روشن مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے، حتیٰ کہ کئی بچے تعلیم جیسے مقدس فریضے سے بھی دور ہو چکے ہیں۔


واضح رہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بذاتِ خود ممنوع نہیں، تاہم اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال قابلِ مؤاخذہ عمل ہے۔ نوجوان نسل جذباتی اور غیر معیاری مواد سے متاثر ہو کر اس کی اندھی تقلید کرنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ تہذیب و شائستگی کے بجائے بدتہذیبی کو ہی معیارِ زندگی سمجھنے لگتی ہے، جو کہ ایک نہایت تشویشناک امر ہے۔


اس ضمن میں صرف پیکا 2016، ترمیم شدہ پیکا 2025 اور ڈی پی آر اے جیسے قوانین کا موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ اصل ضرورت ان پر مؤثر اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد ہے۔ متعلقہ اداروں کو فوری، مؤثر اور شفاف کارروائی یقینی بنانی چاہیے، اور اگر کوئی اہلکار ان قوانین کے غلط استعمال کا مرتکب ہو تو اسے قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔


ہر وہ مواد—خواہ وہ ویڈیوز ہوں، تصاویر ہوں، اشارے ہوں یا تحریریں—جو گمراہی کا سبب بنے، کسی کی عزتِ نفس مجروح کرے، حق تلفی کا باعث ہو یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچائے، اس کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال ہے، جو افراد کو سیدھے راستے سے ہٹا کر ترقی کی راہوں کو مسدود کر رہا ہے۔ نتیجتاً انسان سستی، کاہلی اور بے عملی کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ طلبہ اپنی قیمتی صلاحیتیں فضول سرگرمیوں کی نذر کر رہے ہیں۔


اس صورتحال سے نجات کے لیے اجتماعی اور ہمہ جہت کوششوں کی ضرورت ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، سماجی تنظیمیں، عوامی نمائندگان، اساتذہ، والدین اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات سب کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم ترقی اور قیادت کے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں نئی نسل کو فکری و اخلاقی گمراہی سے محفوظ رکھ کر انہیں مثبت اور تعمیری راستے پر گامزن کرنا ہوگا۔


مزید برآں، جسمانی اور ذہنی صحت مند سرگرمیوں کے فقدان نے بھی نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی غیر ضروری مصروفیات کی طرف مائل کیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف شہروں بلکہ دیہات میں بھی کھیل کے میدانوں اور مثبت تفریحی مواقع کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ نوجوان ہر وقت مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہیں گے، جبکہ ان کی دسترس میں منفی رجحانات کے بے شمار اسباب موجود ہوں۔


وقت کا تقاضا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور نئی نسل کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔


آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں