پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا حکومت مزمل اسلم نے کہا ہے کہ ‏وفاقی حکومت کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ 100 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا حکومت مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ 100 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی میں 6.5 ارب روپے سابق فاٹا (خیبر پختونخواہ) بھی شامل ہے،پہلے 9 ماہ میں صرف 16 ارب 65 ارب کی رقم سے وصول ہوۓ ہیں اور اس کے بعد آج کی نئی خبر۔
ان کاکہناتھا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں جنگ کی وجہ سے حالات ٹائٹ ہیں، اول توترقیاتی بجٹ سے پیسے کاٹنے نہیں چاہیے تھے کیونکہ وہ پہلے ہی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں اور اگر اتنی مجبوری تھی تو وزیر اعظم ایم این اے کے فنڈ کی کٹوتی کر لیتے،دو بڑے صوبوں سے تعاون مانگ لیتے۔
مزمل اسلم کاکہناتھا کہ ضم شدہ علاقے کے پیسے کاٹنے سے وہاں غیر یقینی مزید بڑھے گی،وہاں پر دہشت گردی کا پہرہ ہے، وہاں پر تو الٹا اخراجات بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ان کاکہناتھا کہ واحد خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے بجٹ سے رقم خرچ کر رہی ہے بلکہ اب تک اس سال حکومت کی رقم بر وقت نا ملنے کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت نے 31 ارب کی برج فائنینسنگ کی ہے،ہم اس فیصلے پر وفاقی حکومت کو نظرثانی کی درخواست کریں گے۔
