پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ آج صبح فرانسیسی بحریہ نے روس سے آنے والے ایک تیل بردار جہاز کو بحیرۂ روم میں کھلے سمندر

سورس: X
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ آج صبح فرانسیسی بحریہ نے روس سے آنے والے ایک تیل بردار جہاز کو بحیرۂ روم میں کھلے سمندر میں روکا اور اس پر سوار ہو کر تلاشی لی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایکس پر اپنے بیان میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ مذکورہ جہاز بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں تھا اور اس پر جعلی پرچم لہرانے کا شبہ تھا۔ یہ کارروائی کئی اتحادی ممالک کی معاونت سے کی گئی اور اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کے تحت مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی۔ واقعے کے بعد عدالتی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ جہاز کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
صدر میکرون نے واضح کیا کہ فرانس بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور پابندیوں کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کی سرگرمیاں یوکرین کے خلاف جنگی جارحیت کی مالی معاونت کا ذریعہ بن رہی ہیں، جسے ہر صورت روکا جائے گا۔
