ہائے وہ میری پہلی محبت. . .

25 فروری 2024 کے پچھلے پہر ایک فون کال نے بے جان کردیا۔ پہلی فرصت میں کسی صورت اس پر یقین کرنے کو دل راضی نا ہوا۔ فون کرنے والے چھوٹے بھائی سے بار بار اور ہر

توانائی Feb 28, 2025 IDOPRESS

25 فروری 2024 کے پچھلے پہر ایک فون کال نے بے جان کردیا۔ پہلی فرصت میں کسی صورت اس پر یقین کرنے کو دل راضی نا ہوا۔ فون کرنے والے چھوٹے بھائی سے بار بار اور ہر پہلو سے اس خبر کی تصدیق کی اور ہر دفعہ دل و جان سے یہی چاہا کہ کاش یہ کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے۔ دل اس لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہورہا تھا کہ ابھی اس واقعے سے دو دن پہلے میں ان کے پاس سے آیا تھا۔ میرے دل کو ان کے بارے میں ہر طرح کی تسلی تھی لیکن مشیت کے آگے کبھی کسی کی چلی ہے کیا ؟؟ مشیت نے اپنا کام کر دکھایا اور ہونی ہوکر رہی۔ میرے پہلے استاد،میرے مربی،میرے مشفق،مجھے عزیز از جان،میرا سارا بچپن اور لڑکپن جن کے کندھوں پر گزرا۔ جنہوں نے میری پیدائش کی خبر سنتے ہی کراچی کو خیر آباد کہا اور واپس گاؤں ڈیرے ڈال لیے۔ پورے گاؤں میں اپنی استعداد سے بڑھ کر خوشیاں منائیں۔

وفات کا دن بھی اتنا بھرپور گزارا کہ نماز فجر کے بعد کئی کلومیٹر گھوم پھر کر گھر آئے۔ ناشتہ کیا اور دوستوں سے ملنے چائے والے ڈھابے پر گئے۔ واپس آئے اور خوب دھوپ تاپی۔ دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھائے۔ بعدازاں دوپہر کا کھانا کھایا اور اس کے بعد جوس بنوا کر پیا۔ اچانک دل کی تکلیف شروع ہوئی اٹھ کر کمرے میں جانے لگے تو ایک دم نیچے گر پڑے اور لمحہ بھر میں جان جان آفرین کے سپرد کردی۔۔


اناللہ واناالیہ راجعون


ہمارے لیے یہ دن کبھی نا بھولنے والا دن ہے۔ ایسی ہی یادیں میری دادی کے ساتھ ہیں۔ میرا بچپن ماں باپ سے زیادہ دادا دادی کے ساتھ گزرا۔ میری والدہ جب بھی میکے جاتیں تو مجھے ساتھ لے جانے کی کبھی اجازت نا ملتی۔ میرا سارا وقت دادا دادی کے ساتھ ہی گزرتا۔ دادی جان پچھلے دو سالوں سے شدید بیمار اور کئی ہفتوں سے تقریباً کومے میں تھیں۔ ہمیں انکے بارے میں نہایت فکرمندی تھی۔ دادا جان ان کی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو اکثر پیغام بھجواتے تھے کہ اس نے اب نہیں بچنا آپ آکر اس کی عیادت کرلو ورنہ بعد میں نا کہنا بتایا نہیں۔ لیکن اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ان سے پہلے خود چل بسے۔

عجب قانون قدرت یہ کہ دادا جان کو خالق حقیقی کے سپرد کرنے کے محض آٹھ دن بعد دادی جان بھی چل بسیں اور ہمیں ہمارے دونوں محبوب اور عزیز ترین رشتے اچانک داغ مفارقت دے گئے۔یہ ساری زندگی کبھی نا بھولنے والا ایسا زخم ہے کہ جس پر میں آج ایک سال گزرنے کے بعد بھی یقین نہیں کرپاتا۔ کئی دفعہ انکی یاد آتی ہے تو فورا گاؤں چلے جانے کا دل چاہتا ہے لیکن پھر اچانک یاد پڑتا ہے کہ ان تو بس انکی قبر کی ہی زیارت ممکن ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود آج بھی کئی دفعہ انکی آواز کانوں سے ٹکرا جاتی ہے اور کتنی دیر تک یہ بھول جاتا ہوں کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ کبھی لگتا ہے کہ کہیں نا کہیں سے وہ آجائیں گے اور حسب روایت بانہوں میں لے کر منہ ماتھا چوم کر دعائیں دیں گے۔۔۔

.

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


۔


اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں