
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آئن لائن) بجٹ کی تیاریوں کے دوران آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی، سولر توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو دی گئیں کئی اہم ٹیکس رعایتیں ختم یا محدود کیے جانے کا امکان ہے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف، بجٹ 2026-27 میں سیلز ٹیکس استثنیٰ اور رعایتوں میں نمایاں کمی کے مطالبے پر بدستور قائم ہے۔ اسی سلسلے میں سولر پینلز پر عائد سیلز ٹیکس کو موجودہ ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ بیٹریوں اور انورٹرز پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں درآمدی الیکٹرک بسوں پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء تک برقرار رہے گا۔
حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان تجاویز پر مشاورت جاری ہے اور حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ میں سامنے آئے گا۔
