مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:437ایسی ہی ایک پروقار تقریب سرکٹ ہاؤس کے سرسبز لانز میں محکمہ سمال انڈسٹریز کے تعاون سے لکھی گئی کتاب”چولستان“ تھی۔

مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:437
ایسی ہی ایک پروقار تقریب سرکٹ ہاؤس کے سرسبز لانز میں محکمہ سمال انڈسٹریز کے تعاون سے لکھی گئی کتاب”چولستان“ تھی۔ چولستان کے ہینڈی کرافٹس، ثقافت کے حوالے سے لکھی گئی یہ معرکۃ آرا ء کتاب ڈپٹی ڈائریکٹر سمال انڈیسٹریز عمارہ منظور کی سربراہی میں تیار کی گئی تھی۔ بہاول پور میں عرصہ بعد کتاب کے حوالے سے2 پر وقار تقاریب اوپر تلے منعقد ہوئیں۔عمارہ خود ایک نفیس، سلجھی اور خوبصورت خاتون تھیں۔ یہ شاندار تقریب ان کے ذوق کی آئینہ دار تھی۔ میری ان سے اچھی شناسائی رہی جو آج بھی قائم ہے۔ ان کے ڈاکٹر شوہر وسیم کا 2 برس قبل ایک کار حادثہ میں انتقال ہو گیا تھا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
دراوڑ اور لال سہانراپارک؛
بہاول پور آئیں اور دراوڑ فورٹ اور لا ل سہانرا پارک کی سیر کو نہ جائیں ممکن نہیں۔دراوڑ کا قلعہ احمد پور ایسٹ سے42 کلو میٹر جنوب میں ہاکڑہ دریا کے بے آب و گیاہ کنارے واقع ہے۔قریب ہی نواب خاندان کا شاہی قبرستان ہے جس میں ماسوائے شاہی خاندان کے افراد کے کوئی دوسرا دفن نہیں ہو سکتا۔ سنگ مر مر کے چوبوترے کی چھت شیشہ کاری سے مزین ہے خود اس ریاست کے نواب ابدی نیند سوئے ہیں۔مشہور ہے کہ دراوڑ قلعہ میں نواب صادق خاں چہارم نے اپنی بڑی بیگم ”مائی بھاگی“ کے ایما ء پر اپنی چھوٹی بیگم اور اس کے معصوم بچوں کو کئی برس تک قید رکھا تھا۔ یہی بچہ بعد میں نواب محمد بہاول خاں پنجم کے نام سے ریاست کا حکمران بنا۔ قدرت کے اپنے اصول اور قانون ہیں۔ دراوڑ قلعہ آج بھی آنے والوں کوماضی کا نوحہ سناتے ملتا ہے۔وقت کی رفتار میں تار تار ہوتی ماضی کی یہ پرشکوہ عمارت جلد ہی اپنا رہا سہا جلال بھی کھو دے گی۔
لال سہانرا پارک پاکستان کا پہلا نیشنل پارک ہے جبکہ دیوسائی نیشنل پارک دوسرا۔سر سبز کھیتوں کے درمیان سے گزرتی ٹھنڈی سڑک، دونوں کناروں پر لگے سفیدے کے اونچے درخت اور کہیں کہیں درمیان سے جھانکتے شیشم اور کیکر کے درخت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔نہر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی سڑک لال سہا نرا پارک پہنچتی ہے تو منظر اور حسین ہو جاتا ہے۔ یہ نیشنل پارک ہرن کی معدوم ہوتی نسل کو محفوظ کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اس پارک کے وسیع و عریض سر سبز و شاداب لان اور جنگلی لائف کے بیچ قلقاریاں بھرتے معصوم ہرن بہت خوبصورت لگتے ہیں۔ صبح شام کو بڑے بڑے تھالوں میں انہیں دانہ ڈالا جاتا ہے تو یہ اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ ان تھالوں پر پل پڑتے ہیں۔ یہاں ہرنوں کی بڑی تعداد ہے آپ خریدنا چاہیں تو رقم ادا کریں اور یہ معصوم جانور لے جائیں۔ یہاں مور ناچتے ہیں جبکہ تنہاگینڈا اداس زندگی گزار رہا ہے۔ درختوں کے سائے میں گھرا، سبزہ کے جھرمٹ میں قائم یہاں کا ریسٹ ہاؤس شاندار اور بہت رونوی جگہ ہے۔ نواز شریف بھی یہاں آتے تھے۔
شاہ عالم نیازی؛
بہاول پور کا تذکرہ شاہ عالم نیازی کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔ وہ میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے رہنے والے عرصہ دراز ہوا بہاول پور سیٹیل ہو چکے تھے۔لاری اڈے کے قریب وسیع گھر میں اپنے والد کے ساتھ رہتے تھے۔ دعائیں دینے والے بزرگ ساتھ ہوں تو ہر شے میں برکت ہو تی ہے۔۔ انہوں نے دریائے ستلج کے لودھراں والے کنارے بھی بڑا شاندار اور وسیع ڈیرہ تعمیر کیا تھا۔ وہ مویشی منڈیوں کے کاروبار سے منسلک یہ شخص بلا کا مہمان نواز تھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
