اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس مسرت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں 9مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جی جی میں اس پر عدالت کو بتاتا ہوں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ 9مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آ گئے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جاری ہے،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے، سلمان اکرم راجہ سے 9مئی کا جرم سرزد ہونے سے متعلق عدالت نے سوالات کئے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں 9مئی کا جرم سرزد ہوا ہے ؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جی جی میں اس پر عدالت کو بتاتا ہوں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ 9مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آ گئے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ 3/184 کو محدود نہیں کیا جا سکتا،ملزمان کا آزادعدالت اور فیئرٹرائل کا حق ہے،جسٹس امین الدین نے کہاکہ فیئر ٹرائل کیلئے آپ کو آرٹیکل آٹھ تین سے نکلنا ہوگا، سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ اے پی ایس والے آج بھی انصاف کیلئے دربدر بھٹک رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ آرمی پبلک سکول کے کچھ مجرمان کو پھانسی ہو گئی تھی۔