سیاسی جماعتیں وراثتی سیاست کوخیر باد کہیں اور کروڑ پتیوں کو ٹکٹ دینے کی بجائےا علیٰ کردار کے حامل پروفیشنلز کو منتخب کروا کر اسمبلیوں میں بھیجیں 

مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:305سفارشات:  سیمینار منعقدہ 21،مارچ 2012 ءاس مذاکرے میں سنٹر فار چینج کراچی کے ڈائریکٹر سید فراست علی مہمان خصوصی تھے۔

بڑا ڈیٹا Feb 13, 2026 IDOPRESS

مصنف:رانا امیر احمد خاں


قسط:305


سفارشات: سیمینار منعقدہ 21،مارچ 2012 ء


اس مذاکرے میں سنٹر فار چینج کراچی کے ڈائریکٹر سید فراست علی مہمان خصوصی تھے۔ مذاکرے میں خطاب کرنے والوں میں ائیر مارشل خورشید انور، سکواڈرن لیڈر ریٹائرڈ فاروق حیات، پروفیسر جمیل نجم، پروفیسر مشکور احمد صدیقی ریٹائرڈ کلکٹر کسٹم سلیم اختر، تحریک نفاذ اردو بطور قومی و سرکاری زبان کے محرک ڈاکٹر شریف نظامی، شاہینہ کوثر آغا نوروز، چوہدری ایم اکرام اور صدر سٹیزن کونسل رانا امیر احمد خاں کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔


سفارشات درج ذیل ہیں:


٭…پاکستان میں جمہوری خواہشات کے مطابق تبدیلی لانے کے لیے عوام الناس سے اپیل کی گئی کہ وہ آئندہ انتخابات میں اپنا ووٹ ضرور کاسٹ کریں اور ماضی کے آزمودہ لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو یکسر مسترد کر دیں۔


٭…پاکستان میں حقیقی تبدیلی اور قومی یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ قوم کے بچوں کی بارہ سالہ لازمی سکولنگ کے لیے مکمل قومی نصاب ازسر نو تشکیل دیا جائے اور ملک بھر کے سرکاری سکولوں، پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں ایل جی ایس، دانش سکولوں میں ایک نصاب تعلیم لانا ہو گا۔ اْردو زبان کو حضرت قائد اعظم کی سوچ اور آئین پاکستان کے مطابق قومی و سرکاری زبان اور اعلیٰ سروسز کے لیے امتحانی زبان اور ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ انگریزی، فارسی، عربی، فرنچ، جرمن، جاپانی، روسی اور دیگر زبانوں کو اختیاری طور پر پڑھایا جائے۔


٭…پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے سیاست اور انتخابات سے دولت کے اخراج کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پیشہ ور سیاستدان سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنائیں اور ذاتی سرمایہ کاری اور قومی خزانہ کی لوٹ کھسوٹ کا باعث نہ بنیں۔


٭…بلدیاتی / ضلعی حکومتوں کے انتخابات ہرچار سال بعد قومی انتخابات سے قبل کروائے جائیں۔


٭…تمام سیاسی جماعتیں خاندانی و وراثتی سیاست کوخیر باد کہیں اور کروڑ پتیوں کو اسمبلیوں کے ٹکٹ دینے کی بجائے پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ کردار کے حامل ماہرین/ پروفیشنلز کو قانون سازی کے لیے منتخب کروا کر اسمبلیوں میں بھیجیں۔ نظامِ انتخاب کی اصلاح اور پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کی صحیح نمائندگی کے لیے متناسب نمائندگی کو اختیا رکیا جائے اور ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب سے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی سیٹوں کا تعین کیا جائے۔


٭…پاکستان میں معیشت کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے غیر حاضر زمینداری نظام ختم کی جائے۔ حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات ختم کرنے اور دیگر خودانحصاری اقدامات کے ذریعے بیرونی امداد اور قرضوں سے نجات حاصل کی جائے۔ بیرونی امداد اور قرضے ہماری خودداری اور ملکی سالمیت کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہیں۔


٭…تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے تعلیمی شعبے میں طبقاتی تقسیم ختم کرنے کے لیے باقی دنیا کی طرح 12 سالہ Schooling مفت اور لازمی قرار دی جائے اور یکساں نصاب نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ تمام دنیا کے ممالک نے قومی زبان کو اپنا کر ہی تعمیر و ترقی کی اعلیٰ منازل طے کی ہیں۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں