پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت کا کہنا ہے 8 فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں، اگر پی ٹی آئی زیادہ تعداد میں لوگ

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت کا کہنا ہے 8 فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں، اگر پی ٹی آئی زیادہ تعداد میں لوگ نکالنے میں کامیاب ہوئی تو مذاکرات کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر احتجاج ناکام ہو گیا تو پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا۔
پشاور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے ضرورت تب ہوگی جب پی ٹی آئی سے احتجاجی سیاست کا خدشہ ہو۔اگر 8 فروری کو احتجاج قابل ذکر نہ ہوا تو میرا خیال ہے پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا اور دوبارہ احتجاج کی صلاحیت بہتر بنانے میں انہیں 6 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کی تقرریاں کافی دیر سے ہوئی ہیں ایوان اپوزیشن لیڈر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اس پر پانچ ماہ لگے یہ کام پانچ ماہ قبل بھی ہو سکتا تھا۔
