ہر ظلم کا انجام ہے ، ہر جبر کی اک حد۔۔۔

کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی جو راحتِ دل بھی ہو ، جو ہو دشمن جاں بھی شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ

جگہ Jan 16, 2026 IDOPRESS

کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی


جو راحتِ دل بھی ہو ، جو ہو دشمن جاں بھی


شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی


ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ فغاں بھی


مل جاتی ہے اب بھی کہیں ڈھونڈے سے محبت


گو ختم ہوئی جاتی ہے یہ جنس گراں بھی


ہر ظلم کا انجام ہے ، ہر جبر کی اک حد


آ گہ رہیں اس بات سے فرعون زماں بھی


ابکے نہ اماں پائیں گے یہ اہل حشم بھی


ابکے نہیں بچ پائیں گے شیشے کے مکاں بھی


ہاں مجھ کو یقیں ، مجھ کو یقیں ، مجھ کو یقیں ہے


اک روز بدل جائے گی وحشت کی زباں بھی


اک روز ہاں چھٹ جائیں گے یہ جبر کے بادل


اک روز ہاں پا لے گی یہ مخلوق اماں بھی


اک روز کسی سمت نہ رہ جائے گی ظلمت


اور راہ سے ہٹ جائیں گے سب سنگ گراں بھی


ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے


اک روز بدل جائے گا یہ کہنہ جہاں بھی


کلام : ازھر منیر

(شعری مجموعہ’’ یاد آئی اک پریت پرانی‘‘ سے )

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں