کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی جو راحتِ دل بھی ہو ، جو ہو دشمن جاں بھی شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ

کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی
جو راحتِ دل بھی ہو ، جو ہو دشمن جاں بھی
شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی
ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ فغاں بھی
مل جاتی ہے اب بھی کہیں ڈھونڈے سے محبت
گو ختم ہوئی جاتی ہے یہ جنس گراں بھی
ہر ظلم کا انجام ہے ، ہر جبر کی اک حد
آ گہ رہیں اس بات سے فرعون زماں بھی
ابکے نہ اماں پائیں گے یہ اہل حشم بھی
ابکے نہیں بچ پائیں گے شیشے کے مکاں بھی
ہاں مجھ کو یقیں ، مجھ کو یقیں ، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گی وحشت کی زباں بھی
اک روز ہاں چھٹ جائیں گے یہ جبر کے بادل
اک روز ہاں پا لے گی یہ مخلوق اماں بھی
اک روز کسی سمت نہ رہ جائے گی ظلمت
اور راہ سے ہٹ جائیں گے سب سنگ گراں بھی
ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گا یہ کہنہ جہاں بھی
کلام : ازھر منیر
(شعری مجموعہ’’ یاد آئی اک پریت پرانی‘‘ سے )
