مولے کاجل نے ڈگری لینے پر اکتفا نہیں کیا ،’’ڈانس کے ذریعے امن کا فروغ“ پر تحقیقی مقالہ سپرد قلم کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری عطا کی گئی

مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:234 صرف 10منٹ میں گرم گرم روٹیاں آنے لگیں گی تب تک سالن میزوں پرسجایا جائے گا۔ گھاس لگے سبز لان کی کرسیوں پر گپ شپ شروع

سائنس Dec 2, 2025 IDOPRESS

مصنف:رانا امیر احمد خاں


قسط:234


صرف 10منٹ میں گرم گرم روٹیاں آنے لگیں گی تب تک سالن میزوں پرسجایا جائے گا۔ گھاس لگے سبز لان کی کرسیوں پر گپ شپ شروع ہوئی تو دیپک مالوی نے ہم لوگوں کا تعارف ایک سانولی سلونی خاتون ڈاکٹر کاجل مولے سے کروایا۔ ڈاکٹر کاجل سے میری، ظفر علی راجا اور ارشاد چوہدری کی ملاقات گزشتہ سال پاکستان میں ہو چکی تھی۔ گزشتہ برس آل پاکستان میوزک کانفرنس میں ڈاکٹرکاجل کو مدعو کیا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا تھا اور ہم شریک محفل تھے۔ بلکہ راقم تو ستیاپال جی کی آرگنائزیشن کے لاہور میں نمائندے نصیر چوہدری صاحب کی طرف سے ہوٹل میں بیرون ملک کے مدعو کئے گئے مہمانوں کے اعزاز میں دئیے گئے ناشتہ میں شامل تھا۔ دورانِ ناشتہ میرے بالمقابل بیٹھی ڈاکٹر مولے کاجل سے میری گفتگو خوب رہی تھی۔ وجہ ان کا بنیادی تعلق قائد اعظم کے پاکستان کے سابقہ مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ سے تھا۔ 25۔مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان کے شہروں میں ملٹری ایکشن شروع ہونے کے بعد ڈاکٹر کاجل اپنے خاندان کے ساتھ بھارت ہجرت کر گئیں تھیں۔ ڈاکٹر کاجل سے میری انسیت کی دوسری وجہ ان کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ انہوں نے 1987ء میں بھارت کے صوبہ گجرات کی ایم۔ ایس یونیورسٹی بڑودہ سے پرفارمنگ آرٹس میں بی بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 2 سال بعد انہیں اسی یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری ایم بی اے عطا کی گئی۔ ان کی تخصیص کتھک ناچ تھی۔ 1989ء میں انہوں نے نغمہ سرائی کے فن پر ڈپلومہ لیا اور 1993ء میں کلاسیکل گلوکاری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ ڈگری ایس این ڈی ٹی ویمن یونیورسٹی کی طرف سے دی گئی تھی۔ مولے کاجل نے ناچ سیکھنے اور ناچ کی تعلیم میں ڈگری پر ڈگری لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ’ڈانس کے ذریعے امن کا فروغ“ پر ایک تحقیقی مقالہ سپرد قلم کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری عطا کی گئی اور فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن لینے پر خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر مولے نے بعدازاں امن تحقیق سنٹر احمد آباد کی میں ”ڈانس کے ذریعے حصول امن“ کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا جس پر 2004ء میں کاجل مولے کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔ اس طرح کاجل مولے اعلیٰ درجے کا تعلیمی و تحقیقی کام کرتے ہوئے ڈاکٹر کاجل مولے بن گئیں۔ اب تک وہ بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان، جاپان، سنگاپور میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ بھارت کے تمام بڑے شہروں میں کلاسیکل رقص کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کاجل نے ہمیں یہ بتا کر مزید حیرت زدہ کر دیا کہ اس محفل میں ناچ کے ایک اور ڈاکٹر چترن جن سہانی بھی موجود ہیں، جنہوں نے ناچ کے فن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر چترن جن سہانی کلاسیکل رقص پر پوری مہارت رکھتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی میں رقص اور آرٹس کے پروفیسر ہیں اور مقدس کتابوں مہا بھارت اور رامائن وغیرہ میں بیان کی گئیں دھرم کہانیوں کو رقص کے پیکر میں ڈھالنے پر مہارت رکھتے ہیں۔جلد ہی دیپک مالوی نے کھانا کھلنے کا اعلان کردیا۔ دسترخوان پر تنوری روٹیاں، پراٹھے، بیسنی روٹیاں، دال مسور، دال مونگ، آلو چھولے، سبزیوں کی بھجیا حتیٰ کہ حلوہ پوریاں بھی موجود تھیں۔ بھارت میں ہم لوگ جہاں بھی گئے تین چار دالوں کو ملا کر بنایا گیا ایک مزیدار سالن ضرور دستر خوان پر پایا جسے عام زبان میں کملی ہانڈی کہتے ہیں۔ ہم کملی ہانڈی کے مزے لے رہے تھے کہ بیسنی روٹی پر پنیر کا ٹکڑا رکھے ڈاکٹر کاجل مولے ہمارے ٹولے میں آن شامل ہوئیں اور کھانا ختم کرتے ہی انہوں نے راقم کا ہاتھ پکڑا اور ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوائی۔ دوسری تصویر ستیا پال جی کے ساتھ بنوائی اور ایک تیسری تصویر تمام پاکستانی وفد کے ارکان کے ساتھ بنوا کر ہمیں عزت بخشی۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں