لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کاررضوان رضی نے کہا ہے کہ 1964کے عائلی قوانین سے پہلے نکاح کے وقت مولوی صاحب ایک فقرہ کہا کرتے تھے کہ فلاں

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کاررضوان رضی نے کہا ہے کہ 1964کے عائلی قوانین سے پہلے نکاح کے وقت مولوی صاحب ایک فقرہ کہا کرتے تھے کہ فلاں نام کی اس گھر میں واحد خاتو ن ہے،اس نام، حلیے اور عمر کی کوئی اور خاتون موجود نہیں ہے،ایران امریکا مذاکرات میں ثالث کے نام ،حلیے اور پتہ کا ایک ہی فریق شریک ہیں جس کا نام پاکستان ہے،امریکا بھی اس کی تصدیق کر چکا ہے ،پاکستان کو اس کا کریڈٹ لے لینا چاہئے۔
رضوان رضی کاکہناتھا کہ پاکستان نے فریقین کے ساتھ طے کرلیا ہے کہ مذاکرات ورچوئلی ہونگے،پہلے ہم نے فریقین کو فزیکلی آمنے سامنے بیٹھا دیا اب وہ ورچوئلی آمنے سامنے ہونگے،سینئر صحافی کاکہناتھا کہ ان مذاکرات کے دوران بہت سےایسے مرحلے آئیں گے کہ ایران جو کچھ کہے گاوہ امریکا نہیں مانے گااور امریکا جو کچھ کہے گا ایران وہ مانے سے انکاری ہوگا۔
سینئر صحافی کا کہناتھا کہ اگر ایران جنگ کے دوران کھڑا رہا ہے تو وہ یہ بھی برداشت کر جائے گا، دونوں کے درمیان اعصاب کی جنگ ہے اور مذاکرات ہو رہے ہیں جو پاکستان کروا رہا ہے۔
پرانے زمانے میں نکاح کے وقت مولوی پوچھتا تھااس نام کی، اس عمر کی اور اس حلیے کی کوئی اور لڑکی تو موجود نہیں اس گھر میں؟
ثالث کے نام کا اور حلیے کاایک ہی فریق ہے اور وہ ہے پاکستان
امریکا بھی اس کی تصدیق کر چکا اور پاکستان کو اسکا کریڈٹ لے لینا چاہیے#publicnews #publicopinion… pic.twitter.com/qpjHLQTbMa
— Public News (@PublicNews_Com) April 29,2026
