تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور خطے

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور خطے کے بعض ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اسٹیو وٹکوف کی جانب سے براہِ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، لیکن ان روابط کو مذاکرات قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق ایران میں کسی بھی سطح پر مذاکرات کے دعوے بے بنیاد ہیں، اور تمام پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھیجے یا وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں کے درمیان بھی محدود نوعیت کے رابطے موجود ہیں، جن میں بعض معاملات پاکستان کے ذریعے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بعض سکیورٹی نوعیت کی بات چیت جاری ہے اور امریکہ کے نمائندے سے براہِ راست رابطہ بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔
