انجن آتا دیکھ کر تماشائی بھاگ کھڑے ہوئے، وہ سمجھے گاڑی ان ہی کی طرف آ رہی ہے، یہ منظر دیکھ کر لومئیربرادر ان اور دوسرے تماشائی کھلکھلا کر ہنسے

بڑا ڈیٹا Jul 23, 2026 IDOPRESS

مصنف : محمد سعید جاوید


قسط:19


لومئیر برادرز نے اپنی دوسری فلم ایک مالی کی بنائی جو باغ میں پوری یکسوئی سے ربڑ کے پائپ کے ذریعے گھاس کو پانی لگا رہا تھا ، اس کا سارا دھیان اسی طرف کو تھا کہ اس دوران پاس کھیلتا ہو ایک شرارتی بچہ اس کے پائپ پر پیر رکھ کر کھڑا ہو جاتا جس سے پانی کا بہاؤبند ہو جاتا اور جب وہ مالی پانی نہ آنے کی وجہ جاننے کے لیے پائپ کو اپنے چہرے کے قریب لا کر کے دیکھ رہا تھا تو بچہ یکدم پائپ سے پیر اٹھا لیتا ہے اور پانی ایک دباؤ کے ساتھ مالی کے منہ پر پڑتا ہے۔ اسے ساری بات سمجھ آجاتی ہے وہ مڑ کر دیکھتا ہے تو بچہ یہ شرارت کر کے وہاں سے بھاگتا ہے اور مالی اس کا پیچھا کرتاہے۔ بس یہ اتنی سی 2 منٹ کی فلم تھی لیکن تماشائی اسے دیکھتے تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔ان کی فرمائش پر یہ فلم بار بار دکھائی جاتی تھی۔ اگلی بار ان بھائیوں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا اور ایک روز اپنا کیمرہ لے کر ریلوے اسٹیشن پر جاپہنچے۔ اور وہاں پلیٹ فارم میں داخل ہوتی ہوئی ریل گاڑی کی ایک خاص زاویہ سے انجن کے سامنے کھڑے ہو کرفلم بنائی۔ یہ بمشکل ایک ڈیڑھ منٹ کی فلم تھی جس میں ایک دخانی انجن والی ریل گاڑی آگے بڑھتی چلی آرہی ہے اور سیدھی کیمرے کی زد میں چلی آتی ہے۔ فلم بناتے وقت تو ا س کا احساس نہیں ہوا تھا ، کیونکہ یہ ایک معمول کا عمل تھا ، اسٹیشن پر تو گاڑیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ تاہم جب اس فلم کو نمائش کے لیے تیار کرکے ایک بڑے ہال میں تماشائیوں کے سامنے نصب کئے ہوئے دیو ہیکل پردہ پر چلائی گئی تو انجن کو اپنی طرف آتا دیکھ کر تماشائی خوفزدہ ہو کر اپنی نشستوں سے اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ گاڑی سیدھی ان ہی کی طرف آ رہی ہے اورکہیں ان پر ہی نہ چڑھ دوڑے۔ یہ منظر دیکھ کر لومئیربرادر ان اور دوسرے تماشائی کھلکھلا کر ہنسے۔ اور بھاگنے والوں کا خوب ٹھٹھا اڑایا۔ اب وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ ان کی محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اپنے سینماٹوگراف میں کچھ اور ترامیم و تبدیلیاں کیں۔ اور اس پر مزید تجربات کرنے کا تسلسل جاری رہا۔


اس کے بعد تو ان کا ہاتھ کھل گیا اور وہ دھڑا دھڑ مختصر فلمیں بنانے لگے۔ پہلے تو وہ پیرس کی کسی بھی معروف شاہراہ پر اپنا کیمرہ جما دیتے جو وہاں سے آتے جاتے لوگوں کی روزمرہ زندگی اور سڑکوں پر دوڑتی پھرتی گھوڑا گاڑیوں اور ٹھیلوں وغیرہ کی فلم بناتے رہتے ، اور کبھی اسے اٹھا کر کسی پارک یا چڑیا گھر میں لے جاتے اور جانوروں کی اچھل کود کو فلماتے تھے۔ایسی فلمیں انہوں نے فرانس کے دوسرے بڑے شہروں میں پہنچ کر بھی بنائی تھیں اور جب وہاں ان کی نمائش کی جاتی تو مقامی باشندے فلم میں اپنے جانے پہچانے مقامات اور شہر کی رونقیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ اس دوران 1888ءمیں ان میں سے ایک لومئیر بھائی نے Roundhay Garden Seaکے نام سے مختصر سی ایک فلم بنائی جس میں اس نے اپنے ہی خاندان کے افراد کا گھر میں رہن سہن اور ان کی روزمرہ زندگی کی جھلک دکھائی تھی اور پھر اس نے اپنے ننھے سے بیٹے کو باغ میں ہنستاکھیلتا اور کلکاریاں مارتے ہوئے فلم بند کیا تھا۔ اس فلم میں گو ایسی کوئی خاص بات نہ تھی کہ اس کا ذکر کیا جاتا ، لیکن یہ اس لیے بھی مشہور ہوئی کہ یہ دنیا کی پہلی ایسی فلم تھی جو ابھی تک فلم میوزیم میں ریکارڈ کی حیثیت سے محفوظ ہے اور اس کو سینما کی ترویج اور تربیت کے لیے دستاویزی فلم کی شکل میں دنیا کی اولین فلم کے طور پر دکھایاجاتا ہے۔ (یہ فلم یو ٹیوب چینل پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔)


(جاری ہے )


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں