جہاں توپ اور بندوق سے کام لینے والی فوجیں ناکام ہو جاتی ہیں، وہاں میں نے لفظوں کی فتح اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے، میں مفکر کا بڑا احترام کرتی ہوں 

عی Jul 22, 2026 IDOPRESS

مصنف:صادق حسین


قسط:8 2


جب کوئی دانشور فکر کی گہرائیوں میں ڈوب کر الفاظ کا تحفہ پیش کرتا ہے تو میں دم سادھ کر اُس کے ردعمل کا انتظار کرتی ہوں۔ جہاں توپ اور بندوق سے کام لینے والی فوجیں ناکام ہو جاتی ہیں، وہاں میں نے لفظوں کی فتح اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ میں اس مفکر کا بڑا احترام کرتی ہوں جس کی محبت کا پیغام کسی ایک خطے کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے ہوتا ہے۔


ہاں تو گندم کے پودے کی پیدائش، بچپن، جوانی اور موت، سب کے سب ایک خاص موسم میں واقع ہوتے ہیں۔ تم نے موسموں کو تقسیم کر کے انہیں مختلف نام دے رکھے ہیں۔ میں یہ تقسیم مانتی ہوں لیکن میرے نزدیک موسم کا مفہوم کچھ اور بھی ہے۔ جب تم جھوٹ کی حمایت میں سچ قتل کر دیتے ہو تو میں اسے تاریک موسم سے تعبیر کرتی ہوں۔ جب تم سچ کی فضیلت پہچان کر جھوٹ کی دھجیاں اڑا دیتے ہو تو میں اسے روشن موسم کا نام دیتی ہوں۔ میری دانست میں یہ دو بنیادی موسم ہیں تاریک موسم ہمیشہ نہیں رہتا۔ روشن موسم کی چھاپ غیر فانی ہے۔


بات میں بات نکل آتی ہے۔ ذکر تو ہوس زر کی متعدی بیماری کے مریض کا ہو رہا تھا اس بیمار آدمی کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ خوبصورت دنیا پیدا کرنے والے کی آواز سن سکے۔ وہ آواز جو میرے ذرے ذرے میں ہر آن گونجتی رہتی ہے۔ انسان کی یہ حالت زار دیکھ کر مجھے وہ لوگ یاد آ جاتے ہیں جو آج بھی جھوٹی تمناؤں کے غلام ہیں۔ وہ غور کرتے ہیں اور غور کرنا ایک عظیم عمل ہے۔


اے لوگو! جب بارش ہوتی ہے تو میری مٹی سے خوشبو آتی ہے۔ تم کہتے ہو یہ سوندھی سوندھی خوشبو ہے۔ تم کیا جانو کہ اس خوشبو کی تاریخ کہاں سے کہاں تک پھیلی ہوئی ہے میں یہ بات سن کر مسکراتی ہوں۔ تم جانتے ہو۔ میرے اندر ان مسکراہٹوں کا خزانہ ہے جنہوں نے شہنشاہوں کے دلوں پر راج کیا۔ داستانیں رقم کیں، شاعروں کو تحریک دی۔


خونی انقلاب آئے۔ میری مٹی انسان کے خون سے لت پت ہوئی۔ تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستانوں نے تاریخ کی کتابیں بوجھل کر دیں۔ بھوک اور افلاس کے ناسور پھٹ گئے۔ بھوک اور افلاس کی آگ بھڑک اٹھی تو خونی انقلاب آئے۔ میں یہ تماشا دیکھتی چلی آئی ہوں۔ ساون کے مہینے میں میری مٹی پر رینگتے کیچوے دیکھتے ہو راہ چلتوں کے پاؤں تلے دب کر مر جاتے ہیں۔ اگر تم ایک تنکا سے بار بار چھیڑو اور تنگ کرو تو وہ بھی تن کر احتجاج کرتے ہیں۔ افلاس کے مارے لوگ تو انسان ہوتے ہیں۔ یہ مظلوم جب متفق ہو کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے تو پھر فرانس میں خونی انقلاب آیا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔


میرے وجود پر بسنے والو! خدا کی برگزیدہ ہستیاں چھوڑ کر، تم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی خوش فہمی میں رہتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو زندگی بے کیف ہو جائے۔ کوئی عورت اپنے لانبے بالوں پر ناز کرتی ہے تو دوسری اپنی آنکھوں پر عاشق ہے۔ کسی کو اپنے سروقد کا مان ہے تو کسی کو اپنے رنگ روپ اور صُراحی دار گردن کا مان ہے۔آواز کا جادو بھی تو سر چڑھ کر بولتاہے اور چال کا مقناطیس دل پکڑ لیتا ہے۔ ہر دور میں عورتیں نرگسیت کا شکار بھی رہتی ہیں۔ ہر صدی میں ہر ملک میں کوئی نہ کوئی ایسی حسینہ ہوتی ہے جس کے چرچے دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ تمہاری صدیاں میرے لیے لمحات ہیں اور ان لمحات میں لاکھوں خدا کی شاہکار حسینائیں آئیں ان کی داستانیں زبان زد عام ہوئیں اور بالآخر وہ میری مٹی میں مِل گئیں۔ میں ہی تو ان کی آخری آرام گاہ ہوں۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں