والدہ کے بنائے کھانے اور لاجواب حلوے آج بھی یاد آتے ہیں۔ ان کی دعاؤں اور دئیے حوصلوں کی بدولت زندگی کے مشکل ترین مراحل میں سرخرو ہوا 

مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:365میری والدہ محترمہ ممتاز بیگم دختر راؤ عبدالغفور خاں آف پنجلاسہ تحصیل نرائن گڑھ ضلع انبالہمیرے والد صاحب کی شادی بینک

جگہ Apr 14, 2026 IDOPRESS

مصنف:رانا امیر احمد خاں


قسط:365


میری والدہ محترمہ ممتاز بیگم دختر راؤ عبدالغفور خاں آف پنجلاسہ


تحصیل نرائن گڑھ ضلع انبالہ


میرے والد صاحب کی شادی بینک میں ملازم ہونے کے بعد 18 سال کی عمر میں موضع پنجلاسہ کے راؤ عبدالغفور خان کی بڑی بیٹی ممتاز بیگم(عمر 16 سال)سے 1936ء میں ہوئی تھی۔ ان دنوں بارات میں صرف مرد شامل ہوتے تھے اور براتیوں کو 2 سے 4 دن تک ٹھہرایا جاتا تھا۔ چار، پانچ برادری کے گھروں میں دس دس براتیوں کے لیے بسترے لگا دئیے جاتے تھے جو باری باری بارات کے کھانے پر برات کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کرتے تھے۔ دن بھر چائے پانی بھی چلتا رہتا تھا۔ اس طرح براتیوں اور گاؤں کی برادری کے لوگوں کو خوب میل ملاقات کا موقع ملتا تھا جس سے آئندہ چل کر ان کے بچوں کی شادیوں کا مرحلہ آسان ہو جاتا تھا۔ والد صاحب کی برات کو بھی 3 روز ٹھہرایا گیا۔ میری والدہ کی ایک چھوٹی بہن نذیر بیگم بھی تھی جس کی شادی چیچہ وطنی ساہیوال والے رائے صاحبان کے خاندان انڈیا میں ہوئی تھی لیکن ہماری اس خالہ کا انتقال زچگی کے دوران جلد ہی ہو گیا تھا اس لیے ہم اپنی ہوش میں اپنی خالہ خالو کو کبھی دیکھ نہ پائے۔ مجھے والدہ نے بتایا تھا چھوٹی بہن کے سسرالی ان سے ملنے کے لیے جڑانوالہ 2مرتبہ آئے تھے۔


ہم 6 بہن بھائی قیام پاکستان سے قبل انڈیا میں پیدا ہوئے تھے، 2بھائیوں کی پیدائش 1949ء اور 1951ء میں جڑانوالہ میں ہوئی، دونوں بھائی شیرخوارگی کے عالم میں وفات پا گئے تھے۔ بڑی بہن ناصرہ بیگم کا انتقال 60 سال کی عمر میں 1995ء میں ہوا جبکہ سب سے چھوٹے بھائی شبیر احمد خاں کا انتقال 68 سال کی عمر میں 2017ء میں جڑانوالہ میں ہوا۔ آج ہم2 بھائی نصیر احمد خاں، امیر احمد خاں اور 2 بہنیں ثریا بیگم اور امیر بیگم بقید حیات ہیں۔


ہماری والدہ دنیاوی معیارات کے اعتبار سے ایک خوبصورت گھریلو خاتون تھیں۔ سرخ و سفید رنگ، باریک نقوش، درمیانہ قد سمارٹ جسم لیکن سیرت کے اعتبار سے وہ اس سے بڑھ کر ایک آئیڈیل خاتون تھی۔ میں نے انہیں ہمیشہ والد صاحب کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے سْنا۔ والد صاحب سے اختلاف کی بات تو دور، انہیں کبھی کسی بات پر تکرار کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ اپنی ساس اور 5 نندوں کے ساتھ بھی ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے۔ والد صاحب کی خدمت اور تابعداری کو انہوں نے ہمیشہ اپنا شعار بنائے رکھا، دونوں ہی صبح 3 بجے اْٹھ کر تہجد گزاری اور صبح کی نماز سے فارغ ہو کر تلاوت قرآن پاک سے فیضیاب ہوتے ہوئے دن کا آغاز کرتے۔ دونوں کا انتقال یکے بعد دیگرے بالترتیب 2002ء اور 2003 ء میں جڑانوالہ میں ہوا۔ والدہ کے بنائے ہوئے کھانے، دھاگہ سلے ہوئے قیمہ کریلے، سوجی گاجرکے لاجواب حلوے ہمیں آج بھی یاد آتے ہیں۔ ان کی دعاؤں اور ان کے دئیے ہوئے حوصلوں کی بدولت میں زندگی کے مشکل ترین مراحل میں بھی کامیابی سے سرخرو ہوا ہوں۔


والد صاحب کے ساتھ ان کے قلبی تعلق کا یہ عالم تھا کہ ان کی زندگی میں بھی وہ جڑانوالہ آ کر ایک ہفتہ سے زیادہ ہمارے پاس لاہور میں کبھی نہ رہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد تو انہوں نے جڑانوالہ سے لاہور آنے کا نام نہیں لیا اور ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آپ کے والد صاحب کے ساتھ جس گھر اور کمرے میں زندگی گزری ہے وہیں رہنے میں وہ عافیت محسوس کرتی ہیں۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں