اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم عمر حیات کی درخواست پر

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم عمر حیات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عمر حیات کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار وکیل اور سٹیٹ کونسل عدالت پیش ہوئے جب کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے سردار محمد قدیر ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش ہوئے۔
عدالتی استفسار پر وکیل نے بتایا کہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ رپورٹ کیا کہتی ہے، ماڈل کورٹ کے پاس کیس ہے، وہ تو جلدی ہی کرے گی۔
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ کورٹ کا ہمارے ساتھ کنڈکٹ ٹھیک نہیں، ہم نے کبھی التواء نہیں مانگا، سرکاری وکیل نامزد کرکے فوری جرح کرلی جاتی ہے جب کہ ٹرائل کورٹ کا کنڈکٹ درست نہیں کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال کیے جو اوپن عدالت میں کونسل کے بارے میں نہیں کہے جاسکتے۔
عدالت نے وکیل ملزم سے مکالمہ کیا کہ آپ ادھر آجاتے ہیں اور ادھر جاتے نہیں، آپ ادھر آئیں تو ادھر عدالت کو بتا کر آنا چاہیے، کونسل کا کنڈکٹ نظر نہیں آ رہا، کورٹ کا دوسری پارٹی سے بھی رابطہ اور تعلق بھی نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وہ ماڈل کورٹ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ بعد ازاں، وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
