نیوزی لینڈ نے ویزا قوانین میں نرمی کردی، طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

ویلنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوزی لینڈ کی  حکومت نے ملک میں لیبر کی کمی کو دور کرنے کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جس سے ملازمت کے

چپ ٹیک Jan 6, 2025 IDOPRESS

سورس: WIkimedia Commons

ویلنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک میں لیبر کی کمی کو دور کرنے کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جس سے ملازمت کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے مواقع مزید آسان ہو جائیں گے۔ نئے قوانین کے تحت تارکین وطن کے لیے کام کا تجربہ تین سال سے کم کر کے دو سال کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں نیوزی لینڈ میں روزگار تلاش کرنے میں سہولت ہوگی۔

نیوز 18 کے مطابق موسمی لیبر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے دو نئے ویزا متعارف کروائے ہیں:

تجربہ کار موسمی مزدوروں کے لیے تین سالہ ملٹی انٹری ویزا


کم مہارت والے مزدوروں کے لیے سات ماہ کا سنگل انٹری ویزا


ایکریڈیٹڈ ایمپلائر ورک ویزااور سپیسفک پرپز ورک ویزاکے لیے درمیانی تنخواہ کے معیار کو بھی کم کر دیا گیا ہے۔ اب آجران کو نوکریوں کا اشتہار دینے اور مقامی مارکیٹ کے مطابق تنخواہ دینے کی ضرورت ہوگی لیکن وہ مقررہ تنخواہ کی حد کے پابند نہیں ہوں گے جس سے آجران کو مزید لچک حاصل ہوگی۔

اپریل 2025 سے طلبہ یا دیگر ورک ویزا سے ایکریڈیٹڈ ایمپلائر ورک ویزا پر منتقل ہونے والے افراد کو عبوری کام کے حقوق دیے جائیں گے۔ اب طلبہ ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد تین سال تک ملک میں کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس متعلقہ قابلیت ہو۔ یہ تبدیلیاں تارکین وطن کے لیے نیوزی لینڈ کو زیادہ پرکشش اور روزگار کے مواقع سے بھرپور بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں