گاؤں کی جون ہی بدل چکی تھی، کچے کوٹھوں کی جگہ پکے اور پختہ اینٹوں سے بنے مکانات،میں ماں کو نہیں بچا سکا، ڈاکٹر بیماری کا علاج کرسکتے ہیں موت کا نہیں 

جگہ Jun 7, 2026 IDOPRESS

مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا


قسط:41


مگر آج سالوں بعد وہ گاؤں پہنچا تھا۔ گاؤں کی جون ہی بدل چکی تھی۔ کچے کوٹھوں کی جگہ پکے اور پختہ اینٹوں سے بنے مکانات، پکی سڑکیں اور پکی نالیوں کا نظام۔ گاؤں کے بیشتر گھروں کی طرح اس کا اپنا گھر بھی ایک دیہاتی بنگلے کا سا نقشہ بن چکا تھا۔ گھر کے ساتھ جانوروں کا باڑہ ختم کرکے اسے بھی صحن میں شامل کر لیا گیا تھا۔ عیش کو گھر کی تبدیلی کا پتہ تو دیا جاتا رہا تھا مگر آج آنکھوں کے سامنے دیکھا تو اسے بہت ہی اچھا لگا۔ ڈاکٹر عیش کی رہائش کے کمروں کی تزئین رخسانہ بھابھی نے اس نفاست سے کررکھی تھی کہ ڈاکٹر عیش نہ صرف خوش ہوا بلکہ عش عش کراٹھا تھا اور رخسانہ بھابھی کے حسن انتظام کی بار بار تعریف کر رہا تھا۔ یہ سب کچھ بابا خیر دین کی ہدایت اور جان محمد کی محنت کا ثمر تھا جس نے نہ صرف گھر کے مالی حالات میں ترقی کی بلکہ آج وہ اپنی یونین کونسل کا چیئرمین بھی تھا جس کی وجہ سے اس کے گاؤں کے حالات تبدیل ہوچکے تھے اور ضلعی انتظامیہ میں اس کا خاصا وقار تھا۔ ڈاکٹر عیش کو یہ جان کر بہت اچھا لگا، اُسے یہ ساری تبدیلی ماحول اور تبدیلی حالات انتہائی خوش کُن اور ذریعہ اطمینان محسوس ہوئے۔


ڈاکٹر عیش کو حسب پروگرام گلاب دیوی ہسپتال میں اپنے شعبے کا چارج لئے 4 ماہ گزر چکے تھے۔ آج اماں سکھاں کو ہسپتال زیر علاج آئے 7 ماہ ہوگئے تھے اور آج کل عیش خود اپنی نگرانی میں اماں سکھاں کا علاج کروا رہا تھا وہ روزانہ اماں کے کمرے میں جاکر ان کی خیریت دریافت کرتا اور ادویات دینے میں عملے کی نگرانی کرتا۔ ایک سپیشل نرس اماں کی سروس کے لئے مختص کر دی گئی تھی اور ویسے بھی اماں کی حالت پچھلے 7 مہینے کے صحیح علاج کی وجہ سے خاصی سنبھل چُکی تھی اور اس میں روز بروز اصلاح ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر عیش بذات خود اماں کے میڈیکل ٹیسٹ وقتاً فوقتاً اپنی نگرانی میں کراتے رہتے تھے جنہیں اب ہر صورت میں تسلی بخش قرار دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عیش اور جان محمد خوش تھے کہ اماں کو شاید مدت علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی گھر منتقل کر دیا جائیگا۔


اماں کی دیکھ بھال کے لئے مخصوص نرس روزانہ ڈاکٹر عیش کے دفتر میں آکر اماں کی صورتحال اور صحت کی خیریت بتاتی اور کسی قسم کی واقع تبدیلی کی اطلاع دیتی۔


جان محمد ضلع کونسل لاہور کے اجلاس میں مصروف عمل تھا۔ ایجنڈے کے کسی نقطے پر زور دار بحث چل رہی تھی اور جان محمد بڑے جوش و خروش سے اس نقطے کی وضاحت میں لگا تھا۔ اس کا ٹیلی فون با ر باربج رہا تھا اور اسکی سپیچ میں خلل آرہا تھا اس نے جیب میں پڑے شور مچاتے ٹیلی فون کی گھنٹی جیب میں ہاتھ ڈال کر بند کر دی اور اپنی وضاحت ہاؤس میں جاری رکھی۔ اُسے نقطہ اعتراض پر وضاحتی جواب پیش کرنے میں کافی وقت لگ گیا۔ جب اس نے تقریر ختم کی تو اس نے ٹیلی فون کال دیکھی۔ کال ڈاکٹر عیش کی طرف سے تھی۔ جان محمد ساتھی ممبران سے معذرت کرتے ہوئے ہاؤس سے نکلا اور سیدھا گلاب دیوی ہسپتال پہنچا۔ وہ ڈاکٹر عیش کے کمرے میں گیاتو ڈاکٹر صاحب کمرے میں موجود نہ تھے۔ پھر وہ سیدھا اس وارڈ کی طرف گیا جہاں پر دادی سُکھاں زیر علاج تھی۔ اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر عیش اور کچھ اور اس کے ساتھی ڈاکٹر وارڈ کے دروازے پر جمع ہوگئے تھے۔ جان محمد کو ڈاکٹر عیش کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر کچھ کچھ اندازہ تو ہوا۔ مگر جب ان لوگوں کے پاس پہنچا تو اسے اپنے اس پریشان کن اندازے کا یقین ہوگیا۔ جان محمد پہنچا تو ڈاکٹر عیش اس کے ساتھ بغل گیر ہو گیا اور اسے یہ انتہائی ناخوشگوار خبر سنائی۔


”میں ماں کو نہیں بچا سکا۔ اماں کا انتقال ہو گیا۔ میری ساری محنت رائیگاں گئی۔ میری ساری محنت میری ساری ڈاکٹری عبث ہوئی۔“ جان محمد نے دیکھا کہ ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ جان محمد نے بھی اپنے دکھ اور آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے کہا”ڈاکٹر آپ صرف بیماری کا علاج کرسکتے ہیں موت کا نہیں۔زندگی اور موت کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس نہیں۔“ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں