
بغداد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز شمالی عراق میں ایرانی حملے کے بعد ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک کے لاپتا ہونے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی حملہ آور ڈرون کے ملبے سے ملنے والے ایک نہ پھٹے ہوئے دھماکا خیز مواد کو ’کنٹرولڈ دھماکے‘ کے ذریعے ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہوا۔ اس واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے حملے کی جگہ کی تلاشی کے دوران ’نامعلوم انسانی باقیات‘ ملی ہیں۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان باقیات کی شناخت کے لیے جانچ کا عمل جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں پر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی فوج نے کہا کہ اس کے تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اردن حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی ان فورسز کو ’فوری سزا‘ دینا تھا۔
اردن میں واقع اڈے سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ ویڈیو میں کم از کم دو حملوں کے اثرات اور ایک دھماکا دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں لاپتا ہونے والے امریکی بحریہ کے ایک پائلٹ کو مردہ قرار دیے جانے کے بعد اس تنازع میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
